Showing posts with label ناول. Show all posts
Showing posts with label ناول. Show all posts

Wednesday, 4 April 2018

حصہ 5 سول میٹ

سول میٹ(حصہ 5)
سعدیہ کیانی

ہم شام تک جھولے جھولتے رہے ۔تصاویر بناتے رہے ۔ سنیکس اور کافی پینے کے ساتھ ساتھ کچھ شاپنگ بھی کی ۔ پھر تھکے ہارے ہوٹل کی طرف واپسی کی۔ اگلی صبح اسی شہر میں کچھ رشتہ دار تھے جنہوں نے ایلی اور شمریز کی دعوت کی تھی ہمیں بھی مدعو کیا گیا سو صبح دیر تک سوتے رہے پھر اٹھ کر ناشتہ کیا اور واپس آکر دعوت کی تیاری کی۔ اسی شہر میں نادر کا گھر بھی تھا ۔ ثناء کچھ جھجھک رہی تھی کہ ہونے والے سسرال جانا کچھ عجیب سا ہے لیکن ایلی نے جب اپنی ڈھٹائی کم بے شرمی کے قصے سنائے تو ثناءکا اعتماد خاصا بحال ہوگیا۔
ہم وقت پر آنٹی صفیہ کے گھر پہنچے ۔ بڑی آو بھگت تھی دلہا میاں کی۔ آنٹی بار بار کہتی تھیں کہ داماد میاں کو پتا چلے سسرال کیسا ہے ۔ ایلی بھی بڑے فخریہ انداز سے شمریز کو دیکھتی رہی اور ہم بھی اس مہمان نوازی سے محظوظ ہوتے رہے۔ کھانا بہت پر تکلف تھا ۔ اوون سے لیمن اور مصالحہ میں روسٹ چکن کی خوشبو نے بھوک بڑھا دی۔ کچے قیمے کے چپلی کباب ساتھ ساتھ اتارے جارہے تھے اور گرما گرم پیش کئے جارہے تھے۔ چائینر رائس۔ ڈرائی بیف ۔ قورمہ ۔ مٹن کو مکھن میں تیار کیا گیا تھا ۔۔ جسے کھانے سے ہم قاصر تھے البتہ دکھانے کو کچھ چگ لیا تھا۔ پتا نہیں کتنی ہی ڈشیں آتی جارہی تھیں ۔ آخر شمریز بول ہی پڑا کہ اس سے زیادہ تو گنجائش بھی نہیں اب بس کردیں۔ لیکن آنٹی صفیہ نے کہاں باز آنا تھا ۔ زبردستی ٹھسوا دیا۔۔ پھر ہاضمہ والی ڈرنکس رکھ دیں۔ خدا خدا کرکے کھانے سے فارغ ہوئے ۔ اجازت مانگی تو گفٹس کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ہمارے لاکھ منع کرنے کے باوجود ہمارے تحائف بھی کار میں رکھوا دئے گئے۔ شرمندگی سے جان چھڑانے کی کی۔ و ہاں سے نکلے تو ایک اور کزن سے ملنا تھا جسے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پینا ۔ لیکن وہ کہاں باز آتی تھی۔ بس ہم نے کافی پی لی اور پھر نادر کے گھر کی راہ لی ۔ ابھی تک کھانے کی حاجت نہ تھی لیکن نادر کی ماں نے بھی کچھ کم اہتمام نہ کیا تھا۔
مرتے کیا نہ کرتے جو ہوسکا کھا پی لیا۔ البتہ ان کی تسلی نہ ہوئی ۔ ڈسپوزبل پیکنک میں کھانا پیک کردیا کہ اب بنا دیا ہے تو لے کر جاو۔ پھر شرمندگی سے زمین میں گڑھ گئے کہ بندہ کیا کرے ان بزرگوں کی شفقت کے آگے۔ نادر کا گھرانہ اچھا تھا ۔ سلجھے ہوئے لوگ تھے ۔ نادر کے کمرے کا چکر لگا کر اس کی کافی ساری ایکٹویزکا اندازہ ہوگیا تھا۔ میوزک کا شوقین اور کتابی کیڑا۔ سلجھا ہوا جوان تھا کوئی خاص معیوب شے نظر نہ آئی۔ نادر کی ماں تو سارا وقت بہانے بہانے سے ثناء کو ہی چومتی رہی۔ شمریز اس صورتحال کو انجوائے کررہا تھا۔ مجھے یہ فیملی ثناء کے لئے موضوع لگی۔ نادر کی ماں مجھے
بھی خاصا مکھن لگاتی رہی کہ نادر اور ثناء کا رشتہ پکا کروا دو۔ مجھے اچھا لگا کہ انہیں ثناء پسند ہے ۔ سوچا امی کو جاکر اچھی خبر دونگی۔
رات ہم وہاں سے فارغ ہوئے تو شہر کے اختتام پر شاپنگ مال تھا ۔ کچھ دیر وہاں رک گئے ۔ پھر فارغ ہو کر سیدھے ہوٹل پہنچے۔ چینج کرکے سب کھانے کو بیٹھ گئے ۔ حالانکہ بھوک کم تھی لیکن پھر بھی باتوں ہی باتوں میں ڈبوں میں پیک خوراک ہضم کرگئے۔ اگلے روز ایلی اور شمریز کا کوئی پرسنل پلین تھا اور ہم بھی کچھ خاص موڈ میں نہ تھے ۔ ادھر ادھر گھوم کر واپس آگئے اور پھر اگلے روز اگلے اسٹیشن کی طرف چل دئیے ۔ یہ چند دن تفریح کے ہمارے لئے ضروری تھے ۔ ساری بیاہ کی تکان اتر گئی ۔ ٹرپ سے واپسی ہوئی تو امی اپنا بیگ تیار کئے کھڑی تھیں کہ کل ماموں کی طرف جانا ہے وہ سب خفا ہورہے ہیں ۔ ایلی کو موڈ ابھی ہمیں چھوڑنے کا نہیں تھا لیکن اسے سمجھایا کہ خاندان بھر سے ملنا ہے اور وقت کم ہے ۔ اگلے ماہ پاکستان واپسی تھی ۔
ہم ماموں کے گھر پہنچے تو کزنز نے خوب خوشی کا اظہار کیا۔ رات بھر پروگرام بناتے رہے کدھر جانا ہے۔ کس سےملنا ہے۔ شاپنگ کہاں سے کرنی ہے وغیرہ۔ چند دن خوب گھومتے پھرتے رہے ۔ دعوتیں اڑائیں ۔ کچھ شرارتیں بھی کیں۔ جیسے ایک نک چڑھے کزن کو تنگ کیا۔ اس کے کمرے کا لاک بنا چابی کھولا ۔ اس کی چیزیں چھپا کر دروازہ پھر بند کردیا۔ بچارے کو سمجھ ہی نہ آئی کہ چابی تو اس کے پاس تھی لیکن کمرے سے اشیاء ادھر ادھر کیسے ہوگئیں۔ پھر آدھی رات کو بھوت کا ڈرامہ رچایا ۔ بچارہ ڈرتارہا لیکن چونکہ کسی سے کبھی اچھے مراسم نہ رکھے تھے اس لئے کسی سے مدد طلب نہ کرسکا۔ البتہ اس مشق سے اسے کچھ رویہ بدلنے کا خیال ضرور آگیا۔ پھر ایک روز ایک بزرگ عزیز سے ملنے اولڈ ہاوس گئے ۔ افسوس ہوا کہ پوتے پوتیاں ہونے کے باوجود انہیں یہاں رہنا پڑرہا تھا۔ امی کو وہ بہت پیار کررہی تھیں ۔ ہمارے گال بھی گیلے کردئے چوم چوم کر۔ ان کی تنہائی دیکھ کر دل بہت اداس ہوا ۔ پھر جتنے دن رہے روز شام کو امی ان کی طرف جانے لگیں۔ اور آخر ایک دن ان کی ایک بیٹی کو خیال آہی گیا ۔ اور اس نے خوشخبری سنائی کہ وہ عنقریب ماں کو یہاں سے لے جائے گی۔ امی بہت خوش تھیں۔ ان کا بس چلتا تو وہ واپسی سے پہلے انہیں وہاں سے شفٹ کروا کر ہی آتیں لیکن اتنا وقت نہ تھا۔ پھر ہماری واپسی ہوئی ۔ ایلی خوش ہوگئی ہمیں دیکھ کر لیکن اب ہمارے پاس ذرا بھی وقت نہ تھا کہ مزید رہتے ۔ اور ایلی کو روتا دھوتا چھوڑ کر ہم پاکستان واپس آگئے ۔ فلائیٹ کے دروان مجھے حمزہ سے ملاقات کا سوچ کر بے چینی سی ہونے لگی۔ وقت تھا کہ گزرتا ہی نہ تھا۔ سوچا ائیرپورٹ پر وہ خود آئیں گے لیکن افسوس وہاں چچا جان اور باجی اکیلے ہی ملے۔ حمزہ کسی انٹرنیشل فلائیٹ پر تھے۔ دل بجھ گیا ۔ سوچا کہ کاش چند روز ایلی کے ساتھ ہی بتا لیتی ۔ اس کرب سے تو نہ گزرنا پڑتا۔ وہ بھی منتیں کرتی رہی کہ سیٹ آگے کروا لو ایک ہفتہ ۔لیکن تب ہمیں واپسی کا بھوت سوار تھا۔ حمزہ کی دھڑکنوں سے الجھنے کا جنوں سوار تھا۔ ائیرپورٹ سے گھر تک میرا دل بجھا رہا لیکن گھر کے سامنے اترے تو چچا جان نے کار اپنے دروازے کے سامنے جا روکی۔ اور پھر عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتی چچی اور آپا نے بانہوں میں بھر لیا ۔ خوب پیار اور مبارک دینے لگیں اور پھر گھر سے محلے کی دیگر خواتیں بھی نکلنے لگیں۔ اچھا خاصا ہجوم بن گیا۔ مجھے کچھ شرم سی آنے لگی۔ لیکن سب نے خوشی کا اظہار کیا جو میرے لئے باعث اطمینان تھا۔ گھر جانا چاہا لیکن وہ اپنے گھر لے گئیں۔ مٹھائی سے منہ میٹھا کیا اور پھر چچی نے میرے سر سے صدقہ و خیرات کی رقم وار کر ماسی کے حوالے کی۔ چچی کو اسطرح خوش دیکھ کر مجھے کچھ حیرانگی تھی لیکن اچھا لگا۔ امی اور ثناء بھی خوش نظر آرہی تھیں۔ کچھ دیر بعد ہم نے گھر جانا چاہا تو چچی نے بتایا رات کا کھانا انہوں نے بنا رکھا ہے ۔ بس چند گھڑیاں آرام کرکے ہم سب واپس چچا کی طرف آگئے۔ کھانا کھا چکے تو چچی نے دو جیولری بکس میری گود میں رکھ دئیے ۔ ایک گولڈ سیٹ اور دوسرے میں آپا کی طرف سے کنگن تھا۔ چچی کہنے لگیں کہ حمزہ جلدی نہ کرتا تو سب کچھ اہتمام سے کرتے لیکن وہ کسی کی سنتا ہی کب ہے۔ مجھے لگا جیسے ہر کوئی حمزہ کی شکایت مجھ سے کررہا ہے جیسے میں ہی حمزہ تک رسائی کا رستہ ہوں۔ یہ سب عجیب تھا لیکن اچھا تھا۔ رات دیر تک باتیں کرتے رہے اور پھر گھر آکر سو گئے ۔
دو تین روز تک گھر کی صفائی ستھرائی اور تحائف بانٹنے کا سلسلہ جاری رہا پھر یونیورسٹی کی تیاری کرنے لگی۔ حمزہ کے آنے میں ابھی دن تھے ۔ میں بھی اب مصروف ہوگئی تھی اسلئے حمزہ کی یاد بہت تنگ نہیں کررہی تھی۔
میں ثناء کو لے مارکیٹ جارہی ہوں ۔ تم ابو کے آنے سے پہلے ان کے لئے کھانا تیار کردینا ۔ امی مجھے حکم صادر کرتے ہوئے ثناء کو لے کر چلی گئیں۔ ابو نے شام آنا تھا لیکن پھر فون آگیا کہ رات کو آئیں گے ۔ میں نے کھانا بنا کر رکھ دیا اور خود نہانے چلی گئی ۔ نماز پڑھنے لگی کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔ باجی کو کچھ چاہیے تھا دروازہ کھول کر میں نماز پڑھنے لگی اور باجی کچن سے مطلوبہ شے لے کر چلی گئیں ۔ دروازہ بند کر گئیں۔ نماز سے فارغ ہوکر میں کنگھی کرنے لگی لیکن گیلے بالوں کو کچھ دیر یونہی چھوڑنا پڑا۔ فون بجا ۔ ابو تھے ۔ امی کا پوچھا تو میں نے بتایا کہ ابھی نہیں آئیں۔ پھر ابو نے رات دیر سے آنے کا کہہ کر فون بند کردیا۔ ابھی فون رکھ کر پلٹنے ہی والی تھی کہ کسی نے مجھے دبوچ لیا۔۔ وہی انداز ۔۔ وہی خوشبو ۔۔ وہی لمس۔۔ میں نے سوچا مجھے سرپرائز ملا کہ وہ دو روز پہلے ہی واپس آگئے تھے۔ لیکن سچ یہ تھا کہ مجھے باجی نے غلط بتایا تھا اور وہ بھی حمزہ کے کہنے پر۔ کتنے ہی لمحے گزر گئے ۔ انہوں نے مجھے سمیٹ لیا تھا ۔ میں محبت کی اس گود میں کیسے آرام سے ۔۔ سکون سے کھڑی تھی ۔ وقت رک گیا تھا ۔ کائنات سو گئی تھی۔ ہر طرف خاموشی تھی۔ وہ سانسوں کی گرمائش سے میری روح کو سیک رہے تھے۔ ہم آنکھیں بند کئے دل کی نگاہوں سے اک دوجے کی زیارت میں گم ۔۔ کبھی بوسے تو کبھی سرگوشیاں ۔۔ کہیں جبر تو کہیں صبر کی مشق کرتے رہے۔۔ ان کے سینے سے سر ٹکائے جیسے میں سو ہی گئی تھی کہ دور کسی وادی سے حمزہ کی دلفریب پکار نے مجھے چونکا دیا۔۔۔ ساتھ دستک کی آواز آنے لگی ۔ کوئی دروازہ بجا رہا تھا ۔ میں جیسے گہرے خمار میں تھی ۔ آنکھ اٹھا کر اپنے مہتاب کو دیکھا تو نگاہیں خود ہی گرنے لگیں ۔۔ کتنا مشکل تھا اس وقت ان سے نگاہیں ملانا۔ دستک پھر ہورہی تھی ۔ میں نے حمزہ کی بانہوں سے خود کو آزاد کیا اور دروازہ کھولنے چلی گئی۔ سامنے نومی کھڑا تھا۔ میں اس وقت اسے دیکھ کر کچھ حیران سی ہوئی ۔ لیکن اس سے پہلے ہی وہ بول پڑا۔ سوری میں گاوں گیا ہوا تھا ورنہ تمہارا استقبال کرتا۔ ساتھ ہی اس نے ایک گفٹ پیک میری طرف بڑھایا۔ تمہارے نکاح کا سن کر بہت خوش ہوا ۔ تم دونوں بنے ہی ایک دوسرے کے لئے ہو ۔ میری طرف سے بہت سی نیک تمنائیں ۔۔ آو ۔۔ اندر اجاو ۔۔۔ میں نے نومی کو آنے کیلئے کہا تو اس نے منع کردیا۔ دوستوں کے ساتھ جارہا ہوں۔ ڈنر یے آج۔ میں نے گفٹ پیک پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ۔ تم خوش ہوئے یہی بہت یے۔ لیکن وہ کہاں سنتا تھا ذبردستی پکڑا کر چلا گیا۔ میں واپس کمرے میں آئی تو حمزہ صوفے کی پشت سے سر ٹکائے بیٹھے تھے۔ یونیفارم بھی نہ بدلا تھا اور بہت تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ میں کچھ جھجھکی ۔ آپ کب آئے ؟ ان سے کچھ دور کھڑی تھی ۔ انہوں نے خمار بھری نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔ ہاتھ میری جانب بڑھایا ۔ تمہارے پاس آیا ہوں سیدھا۔۔۔ میں نے ان کے ہاتھ میں ہاتھ دیا تو انہوں نے مجھے اپنے پاس کرلیا ۔۔ ان کے پہلو میں بیٹھ گئی ۔ وہ پیار سے دیکھنے لگے۔ مایا ۔۔۔ تم میری مایا ہو۔۔۔ میں پوچھنا چاہتی تھی کہ آخر یہ مایا کون ہے؟ لیکن میرے پوچھنے سے پہلے گویا وہ سمجھ گئے تھے۔ میرے تصور کی شہزادی ۔۔۔ میرے خوابوں کی ملکہ ۔۔ مایا ۔۔ جسے اکثر خوابوں میں دیکھتا تھا لیکن کبھی پکڑ نہ پایا تھا وہ ہمیشہ جھلک دکھا کر بھاگ جاتی تھی۔ آج لگتا ہے کہ وہ تم ہی تھی۔۔ اکثر بیخودی میں تمہیں مایا کہہ جاتا تھا تو بعد میں شرمندہ ہوجاتا تھا کہ تم سے تو ایسا کوئی تعلق بھی نہیں ۔۔۔ وہ کچھ لمحے خلاء کو گھورنے لگے۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔ تعلق تو صدیوں پرانا تھا ۔۔۔ ہمیں خبر بہت دیر سے ہوئی۔ پھر وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے ۔۔۔ تم ہی مایا تھی ۔۔۔ وہ عکس تھا تم حقیقت ہو۔ دروازے پر پھر دستک ہوئی ۔ حمزہ اٹھ کھڑے ہوئے ۔ میں چلتا ہوں امی کو انتظار ہوگا ۔ چینج کرلوں تو پھر ملتے ہیں ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے میرے گالوں کا بوسہ لیا اور دروازے کی جانب بڑھ گئے ۔ باہر چچی کھڑی تھیں۔ حمزہ سے لپٹ کر خوب پیار کرنے لگیں ۔ کب سے انتظار کررہی ہوں ۔ اتنے دنوں بعد آئے ہو ماں کے دل کو صبر نہیں آتا ۔۔۔ وہ ان کی پیشانی چوم رہی تھیں اور میں کچھ فاصلے پہ کھڑی دیکھ رہی تھی۔ حمزہ نے بھی جواب میں چچی کو خوب زور کی جپھی ڈالی۔ چچی نے آگے بڑھ کر مجھے بھی پیار کیا ۔ کچھ حیا سی آگئی جب چچی نے بہو کہہ کر بلایا۔ مجھے تو یوں بھی تم بہت پیاری تھی اب بہو بن کر میرے گھر آو گی تو میرے حمزہ کی زندگی کو رنگوں سے بھر دوگی ۔۔۔ تم جیسی بہو قسمت والوں کو ملتی ہے ۔۔۔ ہمیں تو یقین نہیں آتا کہ بھائی صاحب نے تمہارا رشتہ کردیا ورنہ یہ نفرت کی آگ تو کب سے دونوں بھائیوں کو جلا رہی ہے ۔۔۔ چچی کچھ اداس ہوگئیں تھیں۔ پھر مسکرا کر میرے سر پہ پھیرا ۔۔۔ مجھے یقین ہے تم دونوں مل کر ان کے درمیان صلح کروا دو گے۔ چچی حمزہ کو ساتھ لے گئیں ۔۔ ماں کا دل تھا ۔۔ کہاں حوصلہ کرتا ۔۔ پتا نہیں کیسے اتنی دیر برداشت کیا انہوں نے۔ حمزہ کی لمبی فلائیٹ کے بعد چچی عموما دو روز صرف ان کے ساتھ ہی چپکی رہتی تھیں ۔
رات حمزہ مجھے بلا رہے تھے لیکن مجھے ابو کی موجودگی میں یہ کچھ مشکل لگا۔ اگلے روز پتا چلا کہ امی نے چچا کی فیملی کا کھانا کیا ہے اور باجی صبح سے ثناء کے ساتھ کچن میں مصروف تھی۔ مجھے یونیورسٹی جانا تھا صبح ہی نکل گئی تھی ۔ واپس آئی کھانا تیار تھا اور سب ٹیبل پر موجود تھے ۔ ابو کی شام کی ڈیوٹی تھی اسلئے وہ بھی دسترخوان پرموجود تھے۔۔ میں نے حمزہ کو ابو کے برابر بیٹھے دیتا تو کچھ جھجک سی محسوس ہوئی کہ اب ان کے ساتھ کیسے بیٹھوں۔ بس کمرے میں ہی جانا مناسب سمجھا ۔ امی نے بھی یہی مناسب جانا کہ ہم لڑکیاں اس خطرناک ٹیبل پر نہ ہی بیٹھیں جہاں کسی بھی وقت جنگ چھڑنے کا احتمال تھا۔ چچا ابو سے معاملات درست کرنا چاہتے تھے اور حمزہ رخصتی کی بات کرنا چاہتے تھے۔ اور ابو دونوں باتوں کیلئے تیار نہ تھے۔ بس کچھ ہی دیر میں اونچی اونچی آوازیں آنے لگیں اور خوب مباحثہ شروع ہوگیا۔ امی نے ثناء کو کھانے کے بعد بلا کر چائے کا کہا اور سب اٹھ کر ڈائننگ سے  ڈرائینگ روم میں جا بیٹھے ۔ حمزہ نے ایک اٹھ کر ادھر آنا چاہا تو ابو نے ڈانٹ کر ادھر ہی بٹھا لیا ۔ ابو انہیں بتانا چاہتے تھے کہ چچا نے ابو کے ساتھ کیسی ناانصافی کی لیکن چچا کہتے تھے کہ یہ سب پھپھو کی سازش تھی۔ آخرکار اس کا حل یہ نکلا کہ حمزہ نے چچا اور ابو کو ساتھ لیا اور پھپھو کی طرف چل دئیے ۔ اب ایک نئی پریشانی بن گئی تھی ۔ پھپھو کے مکر و فریب سے کون واقف نہ تھا ۔ امی اور چچی پریشان تھیں کہ پھپھو دونوں بھائیوں کو اشتعال دلا کر مزید نقصان کریں گی لیکن مجھے یقین تھا کہ حمزہ ساتھ گئے ہیں تو آج یہ معاملہ حل کرکے ہی آئیں گے۔ تین گھنٹے گزر گئے تو فون کی بیل بجی ۔ چچی ابھی تک یہیں تھیں اور اب سو گئی تھیں۔ ثناء نے بتایا کہ حمزہ کا ہی فون تھا اور ابو نے ساری بات سن کر پھپھو کی خوب کلاس لی کہ کس طرح اتنے برس دونوں بھائیوں میں غلط فہمیاں پیدا کرتی رہیں۔ بھائیوں میں صلح کی خبر سن کر سب خوش ہوگئے ۔ امی نے چچی کو جگایا اور ثناء نے پھر چائے چڑھا دی ۔ وہ لوگ گھر آرہے تھے ۔ چچی بہت خوش تھیں ۔ بس اب تیری رخصتی کی بات بھی کرتی ہوں اب بھائی صاحب مان جائینگے ۔ چچی نے مجھے پاس بلالیاتھا اور اب میں ان کی گود میں سر رکھے لیٹ گئی تھی۔ چچی میرے بال سہلا رہی تھیں اور مجھے نیند آرہی تھی۔ چائے آگئی تو چچی نے مجھے جگا دیا ۔ میری آنکھ لگ گئی تھی۔ چائے پی کر سب وضو بنانے اور نماز پڑھنے لگے۔ اب پانچ گھنٹے سے بھی زیادہ گزر گئے تھے اب تک آئے کیوں نہیں ۔ امی پریشان ہورہی تھیں تو باجی نے مذاق کیا کہ کہیں دونوں بھائی کسی جگہ بیٹھے سیلیبریٹ کرتے ہونگے صلح کو۔ لیکن امی کی طرح میرا دل بھی پریشان ہوگیا ۔ گھنٹہ مزید گزرا تو مجھے لگا جیسے میرا دل ڈوب رہا ہے۔ باجی نے مجھے دیکھا تو تسلی دینا چاہی کہ فکر نہ کرو آتے ہونگے لیکن دل تھا کہ ریس کے گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑے جارہا تھا ۔ مجھے لگا جیسے اب میرے اعصاب کمزور ہوگئے تھے۔ فون کی بیل بجی تو باجی جلدی سے اٹھی ۔۔ وہ فون اٹھانے ہی والی تھی کہ میں نے بھاگ کر ریسیور پر ہاتھ رکھ دیا۔  ارے اٹھانے دو فون ۔۔ باجی حیران ہوکر بولیں۔ نہیں فون نہیں اٹھانا ۔

Tuesday, 20 March 2018

4 حصہ

سول میٹ (حصہ چہارم)
سعدیہ کیانی

حمزہ کو بہت تھکاوٹ تھی۔ ایسی حالت دیکھ کر مجھے ترس آنے لگا ۔ آپ سو جائیں پلیز۔۔ کیسے تھکے ہوئے لگ رہے ہیں ۔ ان کے چہرے کو ہاتھوں میں لیا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں پہ رکھ لیا ۔۔۔ پھر چومتے ہوئے بولے ۔ جو خوشی ملی ہے تمہیں حاصل کرکے اس کے بعد اب تھکاوٹ کچھ معنی نہیں رکھتی ۔ آج سکون سے سوؤنگا  گزشتہ دو راتوں سے سویا نہیں ۔ حمزہ نے یہ کہتے ہوئے میرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیا ۔۔۔ اب انہیں یوں چھوڑ کر جانے کا من نہ تھا ۔ تھکاوٹ تو آج سبھی کو تھی اور مجھے تو بہت زیادہ کام کرنا پڑا تھا ایونٹ کے لئے ۔ حمزہ کی تھکن دیکھ کر میں انہیں  بیڈ روم تک لے گئی ۔سوچا ان کے شوز اتار دوں تو انہوں نے بازو سے پکڑ لیا اور جھکنے نہ دیا ۔ ہئےے۔۔ پگلی ! ایسے روایتی عورت نہ بنو  ۔۔ اور ۔۔کبھی میرے پاوں نہ چھونا ۔ انہوں نے پھر میرے ہاتھوں کو بوسا دیا اور خود سے شوز اتار کر بیڈ پہ لیٹ گئے۔۔ میں نے لحاف ان پہ ڈالا اور ساتھ ہی بیٹھ کر ان کے بالوں کو سہلانےلگی ۔۔ وہ اب بھی مجھے دیکھ رہے تھے ۔۔  سو جائیں ۔۔ میں نے دھیرے سے کہا تو ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے کسی اچھے سے بچے کی طرح آنکھیں بند کر لیں ۔ چند منٹوں میں مجھے احساس ہوا کہ حمزہ سو چکے ہیں ۔ میں آہستہ سے اٹھنے لگی ۔ان کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور لحاف درست کرکے اپنے کمرے میں آگئی جہاں ثناء گھوڑوں کا سارا اصطبل بیچ کر سوئی ہوئی تھی ۔
اگلی صبح سورج چڑھنے تک سبھی سوتے رہے ۔ آنکھ کھلی تو گھر میں آنٹی اور امی کی آواز گونج رہی تھی ۔ارے واہ ۔۔ ثناء منہ دھو کر آئی تھی ۔ زبردست بھوک لگی ہے اور امی لوگ مزیدار ناشتہ لائے ہیں ۔ جلدی سے آجاو نیچے ۔ سب ہمارا ہی انتظار کر رہے ہیں ۔ ثناء کمرے سے نکلنے ہی والی تھی تو میں نے پوچھا ۔ حمزہ اٹھ گئے ؟ ثناء پلٹی اور کمر پہ ہاتھ رکھ کر بولی۔اب میرا یہی کام رہ گیا ہے کہ تم دونوں کو ایکدوسرے کی اطلاع دیتی رہوں ۔ اٹھو جاو ۔۔ خود خبر لو اپنے میاں کی ۔ ثناء کمرے سے نکل گئی تو میں نے بھی منہ ہاتھ دھو کر اسی طرح نائٹ سوٹ پہ ہی سکارف لپیٹا اور نیچے پہنچ گئی سب ٹیبل پہ بیٹھے تھے ابھی ناشتہ شروع نہیں ہوا تھا ۔ ہائے گڑیا۔۔ بچے ایسے ہی اتر آئی نیچے ؟ آنٹی نے استفسار کیا ۔ بیٹا اب سہاگن ہے تو اچھے سے تیار ہو جاتی۔۔کچھ زیور پہن لے حمزہ کیا سوچے گا۔  آنٹی بھی انڈین سہیلیوں کے ساتھ رہتے رہتے انہی کے لہجے میں بولیں۔ حمزہ اپنی کمرے سے نکل رہے تھے سن کر ہنسنے لگے۔
اوہو ۔۔ آنٹی شادی کب ہوئی ہے ابھی تو صرف نکاح ہی کیا ہے  ۔  کیوں غلط باتوں پہ اکسا رہی ہیں اس کو ۔ ثناء چڑ کر بولی۔ہاں تو نکاح ہی اصل بات ہے باقی تو سب رسمیں ہیں ۔ دونوں کو ۔۔۔۔ ابھی آنٹی بات کررہی تھیں کہ حمزہ نے ٹوکا ۔ ٹھیک کہہ رہی ہے ثناء ۔ ابھی گڑیا کو نارمل زندگی گزارنے دیں ۔ جب تک یہ چاہے ۔ وہ بہت پیار سے مجھے دیکھ رہے تھے ۔ اف یار ۔۔۔ ناشتہ شروع کرو ۔۔ بھوک لگی ہے ۔ اب کہ ثناء کی بجائے ایلی بولی۔
ناشتے کے دوران ایلی اور شمریز بار بار ہمارا شکریہ ادا کرتے رہے کہ ہم نے ان کی شادی کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ناشتہ کے بعد شمریز اٹھ کر باہر نکل گیا کچھ دیر میں واپس آیا تو دو گفٹ پیک اٹھا رکھے تھے ۔ دیکھنے میں لگتا تھا جیسے گھڑی ہے۔  یہ کیا ہے شمریز ؟ یار کیا ضرورت ہے اس سب کی؟ ثناء کچھ شرمسار سی بولی۔ شمریز نے اسے گفٹ تھماتے ہوئے گلے سے لگایا۔ اور میری طرف بڑھا۔ اوہ پلیز شمریز ۔۔۔ میں ناراضگی سے بولیں تو شمریز نے میرے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑنا چاہا۔۔ تم تو بالکل بھی ایسی بات نہ کرو ۔ تمہارے تو دو گفٹ بنتے ہیں ۔  لیکن فلحال ایک ہی لیا ہے دوسرے کا وقت نہیں ملا ۔۔۔ کچھ دیر تکرار کے بعد ہم نے تحفے لئے اور شمریز کا شکریہ ادا کیا ۔ گفٹ کھلے تو گولڈ برسلیٹ میرے لئے اور لاکٹ ثناء کو بہت پسند آیا ۔ ایلی یہ وہی ہے نا؟ ثناء خوش ہورہی تھی کہ وہ ایلی کے ساتھ جب جیولر کے پاس گئے تھے تو ثناء بار بار وہ لاکٹ چیک کررہی تھی جس سے ایلی کو اندازہ ہوگیا تھا اور اسی نے شمریز کو گائیڈ کیا کی مجھے ہاتھوں میں پہننے کی جیولری زیادہ پسند ہے ۔ شمریز ابھی بھی مطمئین نہیں تھا اور پتا چلا کہ ہنی مون ٹرپ پہ وہ دونوں ہمیں اور ایک ایلی کی دوست کو بھی لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حمزہ نے سنا تو ایلی کو اشارہ کرتے ہوئے بولے ۔ کچھ اس غریب کا خیال بھی کر لو ایلی۔۔ حمزہ کا اشارہ میری طرف تھا ۔ ثناء چڑ سی گئی تھی ۔ میں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں حمزہ کو اشارہ کیا کہ ایسی باتیں نہ کریں۔  یار حرج تو کوئی نہی اپنی اہلیہ کے ابا سے اجازت لے لو تو لے چلتے ہیں تم کو بھی ۔ حمزہ نے فورا کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے توبہ کی ۔ رہنے دو یار ۔۔ چچا کو تو ہوا بھی نہ لگے کہ میں ایسا سوچتا بھی ہوں۔ اور پھر انہوں نے گہری نگاہ ڈالی مجھے لگا جیسے ایک بار پھر میں ساحل سمندر پہ کھڑی ہوں اور ٹھنڈی ہوائیں مجھے سمندر کی جانب دھکیل رہی ہیں ۔ نجانے کب تک ہم ایک دوجے کی نگاہوں میں گم رہے ارد گرد باتیں ہوتی رہیں پھر سب ٹیبل سے اٹھ گئے ۔ شوگر ۔۔ شوگر ۔۔ اوپر آو ۔۔ بات کرنی ہے۔ ایلی مجھے کندھے سے جھنجھوڑنے لگی تو ہوش آیا۔ حمزہ اب بھی گم سم دیکھے جارہے تھے ۔ اچھا آتی ہوں ۔۔ میں نے گہری سانس لی اور ارد گرد نگاہ ڈالی تو وہاں اب حمزہ کے سوا کوئی نظر نہ آیا ۔ ایلی مجھے بلا کر اوپر چلی گئی ۔ سنیں ۔۔۔ اےے۔۔۔ میں حمزہ کے سامنے آکر کھڑی تھی وہ دیکھ رہے تھے لیکن خواب کی طرح دور کہیں مجھے بانہوں میں لئے اپنے ارمانوں کی سیج سجائے بیٹھے تھے۔ ہممم۔۔۔ کیا کریں مایا ۔۔۔ حمزہ آہستہ سے کھڑے ہوئے اور میں گردن جھکائے کرسی پہ بیٹھے اپنے سول میٹ اور اب دنیا میں بھی وہ میرے میٹ بن چکے تھے ۔دیکھ رہی تھی اب طویل قامت حمزہ کی نگاہوں کے تعاقب میں منہ آسمان کو اٹھانا پڑا۔ مایا؟؟ میں چونک گئی۔۔۔ مجھےیاد ہے حمزہ اکثر جب بہت تھکے ہوتے یا نیند میں اکثر میں نے سنا کہ وہ مجھے مایا کہہ کر بلا رہےہیں۔ ایک بار تو مجھے شک ہوا کہ کوئی اور لڑکی ہے جو ان کے خوابوں میں راج کرتی ہے لیکن انہوں نے کہا کوئی لڑکی نہی اور نا ہی کوئی مایا ہے ۔۔ تمہارے سوا کوئی میری دوست نہیں ۔
آج میرا تعلق ایسا تھا کہ مجھے حمزہ سے پوچھنا پڑا ۔آخر یہ ہے کون مایا؟ میرے چہرے پہ شک کا تاثر کیسا عجیب لگا ہوگا کہ حمزہ کی ہنسی نکل گئی۔۔۔ وہ بے اختیار بڑھے اور مجھے دبوچ لیا ۔۔ ڈھیر سارے بوسے میری آنکھوں اور گالوں پہ لئے تو مجھے میرا دوست حمزہ نظر آنے لگا جو صرف پیار کے جذبے کے تحت ہی پیار کرتا تھا ۔ جسے میری جنس اور وجود سے سروکار نہ تھا بلکہ وہ میری روح کی الفت میں گرفتارتھا۔۔  شوگر ۔۔۔ ایلی کی غصیلی آواز نے چونکا دیا۔
آپ ثناء کے سامنے ایسی حرکات سے پرہیز کریں وہ غصہ کرتی ہے ۔ میں نے حمزہ کے بازوں کا گھیرا کھولتے ہوئے کہا ۔ ایلی بلا رہی ہے اور جلدی سے بھاگ کر سیڑھیوں کی طرف چلی گئی ۔ کیسا سرور ہے ۔ عجیب مزہ ہے یہ چاہے جانے کا۔۔  محبت کا۔۔۔  اظہار کا ۔۔۔ واہ
کب سے انتظار کررہی ہوں ۔ تمہیں تو حمزہ سے ہی فرصت نہیں اب۔۔ ایلی خفا ہونے لگی۔ میں نے جپھی ڈالی اور اس کے گالوں پہ چٹک چٹک پیار دئیے۔۔۔ یار۔۔۔ سو سوری ۔۔ حمزہ کا یہ انداز مجھے بھی ہضم نہیں ہورہاابھی۔ لیکن کل انہوں نے واپس چلے جانا ہے تو پھر ہم اور تم ۔۔۔ مزے ہی مزے ۔۔۔ میں ایلی کو منا رہی تھی ۔ اچھا بتاو ۔۔ چلو گے ہمارے ساتھ ؟ ایلی اب سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی ۔ نہیں یار ۔۔ تمہارا ہنی مون ہے ہمیں کیوں ساتھ کباب میں ہڈی بنا رہی ہو ۔ جاو مزے کرو اپنی زندگی کے یادگار دن گزارو۔۔۔
نہیں ہمیں تو تمہارے ساتھ جانے سے خوشی ہوگی ۔ شمریز کو بھی بہت دل ہے کہ تم دونوں چلو اور میری دوست بھی چلے گی تو تم دونوں کی کمپنی بھی ہوجائے گی۔
کچھ دیر بحث مباحثہ چلتا رہا اور میں نے امی ابو سے مشورہ کے بعد حامی بھرنے کا کہا۔ پھر اس کے ساتھ اسکے شادی والے ڈریسزز سنبھالنے لگی۔
حمزہ کی فلائیٹ تھی اور میرا دل اداس تھا۔ شمریز نے کہا کہ وہ انہیں ائیرپورٹ پر چھوڑنے جائے گا تو میں بھی جا سکتی ہوں۔لیکن مجھے کچھ شرم سی تھی کیونکہ ابو بھی دوسری فلائیٹ سے واپس جارہے تھے ۔ میں ابھی دونوں کا ایک ساتھ سامنا نہیں کرسکتی تھی۔
شمریز کار میں انتظار کررہا تھا اور حمزہ میرے گرد بانہوں کا حصار بنائے کھڑے تھے ۔ مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ نکاح کے بعد رخصتی کے لئے میرا صبر کم پڑ جائے گا  اب تو لگتا ہے کہ ۔۔۔
حمزہ لفظوں کی بجائے لمس کا استعمال کرنے لگے ۔ سنو۔۔۔ مان جاو ۔۔ میرے دل کو قرار نہیں۔۔ ان کے ہونٹوں نے چہرے کا مکمل طواف کیا ۔ میں نے ان کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا ۔۔۔ آپ جانتے ہیں تو کیوں مجھے مجبور کررہےہیں ۔۔ میں ابھی اس نئے بندھن کو سمجھ بھی نہی پا رہی ۔۔۔ سب اتنی جلدی ہوگیا کہ مجھے کچھ پتا نہیں کہ میں کیا چاہتی ہوں۔  حمزہ کے چہرے سے یکلخت مسکراہٹ غائب ہوگئی اور سپاٹ لہجے میں بولے۔۔ اس بات کا کیا مطلب؟ کہنا کیا چاہتی ہو؟ ان کی بانہوں کی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔۔ مجھے احساس ہوا کہ میری بات کو وہ سمجھ نہیں پائے ۔۔ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں ۔ ان کے بازو اپنے گرد پھر سے لپیٹ کر میں مزید قریب ہونے لگی۔ ایک پاوں حمزہ کے پاوں پہ رکھ کر ان کے چہرے کے عین سامنے آگئی ۔۔ بانہیں گردن کے گرد لپیٹ دیں۔ان کی حسین  آنکھوں کو چوما۔ ماتھے پہ بوسہ دیا اور پھر بہت دیر تک ہم سانسوں میں الجھتے رہے۔۔۔ یہاں تک کے شمریز کی آواز آئی ۔ جو دروازے سے آوازیں لگاتا اندر آرہا تھا ۔ آپ جانتے ہیں میں کیا کہنا چاہتی ہوں ۔۔ میں پیچھے ہٹنے لگی اور شمریز کے یہاں آنے سے پہلے حمزہ سے خود کو الگ کرلیا۔ یار دیر ہورہی ہے اب چلو بھی۔ شمریز کو دھیان نہ رہا کہ ہم الوداعی ملاقات کررہے تھے لیکن جیسے ہی اسے احساس ہوا وہ شرمندہ سا ہوگیا۔اوہ سوری ۔۔۔ وہ جلدی سے پلٹا اور یہ کہتے ہوئے باہر چلا گیا ۔۔ ٹیک یور ٹائم مین۔۔ نو پرابلم۔
اب حمزہ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فریفتہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولے۔ لگتا ہے جیسے اللہ نے میری عبادتوں کے اجر میں تمہاری قربت لکھ دی ۔۔ سوچتا ہوں کہ اس کی کون کون سی نعمت کا شکر ادا کروں ۔ نا چاہتے ہوئے بھی میں ضبط نہ رکھ سکی اور دو موٹے موٹے سے آنسو میرے گالوں سے پھسل گئے ۔۔۔ سر اٹھایا تو حمزہ کی آنکھیں بھی نم تھیں ۔ سفید رنگت پہ آنکھوں کی سرخی ابھرتی کیسی اچھی لگ رہی تھی۔ وہ سچ کہہ رہے تھے ۔ ہم اس قابل کب تھے کہ اس کی بندگی کا حق ادا کرتے ۔یہ تو اس کا کرم اور فضل تھا جو ہمیں آزمائشوں سے بچا لیا۔ میں آگے بڑھی اور الوداعی ملاقات کرتے ہوئے دھیرے سے ان کے کان میں کہا۔ جائیں ۔۔۔ اور تیاری کریں! حمزہ نے ایک دم سے مجھے کندھوں سے پکڑا اور الگ کرتے ہوئے خوشی سے بولے۔ تمہیں یقین ہے نا کہ کیا کہہ رہی ہو؟ جی ۔۔۔ جو آپ چاہتے ہیں وہی کریں ۔۔۔ میرے جواب سے انہیں تسلی نہ ہوئی۔  میری چاہت تو تم ہو ۔۔۔ مایا تم ۔۔۔ حمزہ پھر سے مجھے نشيؤوں جیسے لگنے لگے۔۔۔ آپ کی فلائیٹ نکل جائے گی جائیں شمریز کب سے انتظار کررہا ہے ۔ اب میں نے جان چھڑانی چاہیی تو وہ سمجھ گئے اور شرارت سے بولے ۔۔ اب مکر نہ جانا ۔۔۔ تمہاری واپسی سے پہلے ہی میں شادی کے انتظامات کروا لونگی اور پھر۔۔۔ میں نے بڑھ کر ان کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔ بس ۔۔۔ بس۔۔۔مجھے کوئی تفصیل نہی سننی ۔۔جو جی میں آئے کریں۔۔۔ او مائی گاڈ ۔۔ ایلی پتا نہی کہاں سے ہمارے سروں پہ آن پہنچی تھی اور اب کمر پہ ہاتھ رکھے ہمیں گھور رہی تھی۔ میرا میاں باہر بیٹھا سوکھ رہا ہے اور تم دونوں کی فلم کا دی اینڈ ہی نہیں ہورہا ۔ وہ سچ میں بہت غصہ میں تھی ۔ حمزہ نے جھٹ میرے گالوں پہ بوسہ لیا اور تیزی سے باہر نکل گئے ۔ ایلی اب بھی مجھے گھوررہی تھی۔ شرم کرو میری شادی کا چارم چرانے کی کوشش کررہی ہو۔۔ میں نے پریشان ہوکر اس کی شکل دیکھی تو بھاں آہاہا ہا ۔۔۔۔ کرکے اس کی ہنسی نکل گئی۔۔ توبہ ہے ایلی ۔۔ کیسی فضول بات کی ۔۔ میں نے خفگی سے دیکھا تو وہ ابھی تک ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کررہی تھی ۔ میرے گلے میں بازو ڈال کر لٹک گئی ۔۔۔ ابھی تک ہنسی جارہی تھی پھر بڑی مشکل سے بولی ۔۔۔ تمہاری ہوٌنق شکل دیکھ کر ہنسی آگئی ورنہ میں نے پورا ڈرامہ تیار کر لیا تھا آج تمہاری کلاس لینے کا۔۔ وہ ہنسی کے ساتھ ساتھ میرا مذاق بھی اڑانے لگی۔۔ تم دونوں کیا کررہی ہو ؟ ثناء غالبا کافی لینے آئی اور ہمیں دیکھ کر کچھ جیلس سی ہوگئی ۔ مجھے اوپر کام پہ لگا کر تم دونوں ادھر لطیفے سنا رہی ہو ایکدوسرے کو ۔۔ ثناء کی اس بات پر ایلی کو اور ہنسی آنے لگی اور پھر وہی ہوا  ۔ محترمہ ہنستے ہنستے زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگی ۔ میں نے ثناء کو دیکھا جو اب پریشان ہورہی تھی کہ ایلی کو کیا ہوا ۔ اٹھاو اس کو۔۔  اور پھر ہم دونوں نے ایلی کو ڈنڈا ڈولی کرتے ہوئے صوفے پہ لے جا پھینکا۔
اس روز رات تک ہم نے شادی کا کھلارا سمیٹا اور پھر رات آنٹی کی طرف کھانے پہ چلے گئے ۔۔ ابو سے ملنا تھا ۔ امی نے مجھے اوپر کمرے میں بلایا۔ گڑیا اب ذرا دھیان سے میری بات سننا۔ امی کی ایسی خطرناک انداز کی تمہید نے مجھے پریشان کردیا۔ آخر ایسی کیا بات تھی ؟
حمزہ مجھے بہت پیارا ہے اسی لئے میں نے تمہارے ابا سے اس نکاح کیلئے لڑائی لڑی۔ لیکن خاندان بھر میں بہت۔باتیں ہورہی ہیں ۔ خصوصا حمزہ کا تمہارے ابا سے جھگڑے کا علم سب کو ہوگیا۔ کچھ تو تمہارے رشتہ مانگنے والوں نے بہت بڑھا چڑھا دیاکہ گڑیا خود حمزہ کو کہہ کر آئی ورنہ پاکستان میں بھی نکاح ہوسکتا تھا۔۔۔ امی کچھ رکیں اور میں سوچ رہی تھی کہ کیسا ظالم معاشرہ ہے۔ ایک جائز کام کے خلاف کیسے کیسے بیان تراشے ہیں۔ اگر ہم نکاح نہ کرتے تو ہمارے درمیان کشش کے۔لمحے تو روکے نہی جاسکتے تھے اور جیسا جنوں اور دیوانگی  حمزہ کی میرے۔لئے تھی وہ گناہ کے راستے کی طرف لے جاتی۔ مجھے حمزہ کا بروقت فیصلہ کرنا اچھا لگا ۔محبت کی منزل نکاح ہے۔ یہی درست راستہ تھا ۔ کہتے رہیں جو بھی کہتے ہیں خاندان والے۔ جن کے رشتے میں نے ٹھکرائے وہ اپنا غصہ اسی طرح نکالیں گے۔ البتہ ابو کو بہت دکھ تھا ۔ اس بات کی مجھے شرمندگی تھی ۔ اور اب حمزہ کا رخصتی کیلئے جلدی کرنا ایک نئی مہم تھی بلکہ مصیبت نظر آتی تھی کہ ابو کسی صورت نہیں مانیں گے۔ وہ ثناء کی شادی سے پہلے میری رخصتی کسی صورت نہیں ہونے دیں گے یہ میں جانتی تھی۔ لیکن حمزہ کو اپنی سپورٹ۔کا یقین دلانا بھی ضروری تھا۔
اب یہاں سب تم سے بہت فضول سوال۔کریں گے ۔امی پھر بولنے لگیں اور بہت ساری نصیحتوں کے بعد سب سے اہم بات ثناء کے رشتے کی بتائی۔ تمہارے ابو نادر اور اس کے گھر والوں سے مل۔گئے ہیں اور انہیں وہ لڑکا پسند ہے البتہ ابھی شادی کیلئے رضامند نہی۔ ان لوگوں کو پاکستان آنے کی۔دعوت دے دی ہے۔ جب ہم واپس جائیں گے تو وہ وہاں آجائیں گے پھر شادی کا سوچیں گے۔ تم نے میرا ساتھ دینا ہے ۔۔ امی نے مجھے سے سوالیہ انداز سے کہا تو میں نے تعجب کا اظہار کیا ۔ کس حوالے سے ساتھ کا کہہ رہی۔ہیں امی؟ میں نے پوچھا تو پھر بولیں۔ بس زرا نادر کی چانچ پڑتال۔۔ تمہیں  پتا ہے ادھر کے۔لڑکوں میں۔سو طرح کی خرابیاں ہوتی ہیں سامنے اچھا بنا ہو اور۔۔۔ مجھے امی کی بات سمجھ آگئی۔۔ آپ اس کی فکر نہ کریں ۔ اگلے ہفتے ایلی اور شمریز ہنی مون کیلئے جارہے ۔نادر کا گھر اسی شہر میں۔ہے ۔ آپ بتائیں ایلی تو بضد ہے کہ ہمیں ساتھ لے کر جائے گی ؟ ہاں ہاں ۔۔ اگر کہتی ہے تو جاو۔۔ ذرا نادر کا گھر بار بھی دیکھ آنا۔۔ ہم کچھ دیر مزید بات کرتے رہے پھر میں ساری باتوں پہ غور کرتی ایلی کے گھر واپس آگئی۔ وہ دونوں ہمیں کہیں اور جانے نہیں دے رہے تھے ۔ حالانکہ ابھی سارا خاندان ہمارا منتظر تھا سبھی دعوت دے چکے تھے کہ چند روز ان۔کی طرف گزار لیں۔
ہنی مون پہ جانے کی تیاری مکمل تھی ہم ائیرپورٹ پہنچ چکے تھے ۔ ایلی کی دوست بھی ساتھ تھی ۔ بچپن کی دوستی تھی اور دو ماہ بعد اسکی بھی شادی تیار تھی۔ عاشی اچھی خوش مزاج لڑکی تھی ہمیں اس کی۔کمپنی میں بہت مزہ آیا۔ رات ہوٹل پہنچے اور آرام کیا۔ صبح بالکونی سے باہر دیکھا تو خوبصورت منظر تھا ۔ سامنے سمندر تھا اور اسکے ساحل پہ لوگ دھوپ سیکنے جمع ہورہے تھے ۔ ہم تیار ہوکر ناشتہ کرنے نیچے آگئے تھے ۔ جوس برڈ اور انڈے تھے ۔ کافی بہت شاندار تھی۔ وہیں سے باہر نکلے ۔ سامنے بیچ پر کچھ دیر گھومتے رہے ۔ ایلی اور شمریز کہیں رومینس میں مصروف تھے نظر نہیں آرہے تھے ۔ ہم نے بھی انہیں پراویسی دئیے رکھی اور خود انجوائے کرتے رہے ۔ سمندر میری طبیعت بدل۔دیا کرتا تھا۔۔۔ اب بھی مجھے اپنےحصار میں لینے کا ارداہ تھا کہ عاشی نے مجھے پانی پہ دھکا دے دیا ۔ بس پھر کیا تھا۔۔ پانی پت کی جنگ چھڑ گئی۔۔ جب تک دونوں کو پوری طرح سے ڈبو نہ لیا چین۔نہ آیا۔۔ ہم اتنا کھیلے کہ احساس ہی نہ ہوا کہ باقی لوگ کھڑے ہماری وڈیوز بنا رہے ہیں اور حیران ہورہے ہیں۔کہ یہ دیسی کڑیاں کیسے زبردست انجوائے کررہی ہیں ۔ تھک ہار کے ساحل۔پہ گرے تو سورج عین سر ہی کھڑا تھا اور کوئی اور بھی سورج میں کھڑا تھا ۔۔ ابھی غور وفکر جارہی تھا کہ یہ کیا بلا ہے جو ہمارے اور سورج کی تیز روشنی کے بیچ ہائل۔ہوگئی اور اب نہ سورج پورا نظر آرہا تھا اور نہ اس مخلوق کی سمجھ آرہی تھی۔ کیا ہوگیا اب شکل بھی یاد نہی آرہی ۔۔ یہ تو ایلی تھی ۔ جو سر پہ پرندوں کے پر لگائے جنگلیوں کی ملکہ بنی عین ہمارے سر پہ آن کھڑی ہوئی تھی۔ اچھا اسی لئے ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا بلا ہے جس نے چکا چوند روشنی کو مشکوک کررکھا ہے۔ میں سیدھی اٹھ بیٹھی تو ایلی کا حلیہ دیکھ کر میری ہنسی جاری ہوگئی ۔اتنا ہنسی کہ حلق خشک محسوس ہونے لگا ۔ عاشی اور ثناء بھی ہنس رہی تھیں ۔ ایلی نے بھی اب پوزنگ شروع کردی۔ ہالا لا۔۔۔ ہو ہو ۔۔ منہ پہ سفید دھاریاں اور گلے۔میں ہڈیاں لٹکائے وہ بیلی ڈانس کی طرح سے کوئی پرفارمنس دے رہی تھی اور عمدہ ایکٹ تھا۔ ہم کیا ہنس رہے تھے وہاں تو گوروں کالوں اور عربوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ مفت کی پرفارمنس تھی۔ لوگ تالیاں بجا رہے تھے۔ ایلی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بھی اس ہنگامے میں شامل کرنا چاہا ۔۔ ثناء نے دیکھا تو بھاگ کھڑی ہوئی کہ ایسے پبلک میں میں کوئی ڈرامہ نہیں کرنا لیکن۔میں نے ایلی کا ساتھ دیا اور کچھ ہی دیر میں سارا ساحل جھوم رہا تھا ۔۔ سبھی ناچنے لگے۔ خوب ہلاگلہ ہونے لگا۔ کچھ دیر بعد ہم۔تھک کر واپس ہوٹل کہ طرف چل۔پڑے جو ساحل کے ساتھ ہی تھا۔ لابی میں سے گزرے تو کچھ لوگوں نے تالیاں بجائیں غالبا وہ بھی ہماری۔پرفارمنس دیکھ آئے تھے ۔ کمرے میں جاکر ہماری دوڑ لگ گئی کہ پہلے کون نہائے گا۔ ایکدوسرے کو گرا کر گھسیٹ کر ہم تینوں باتھ کے دروازے تک پہنچ گئے لیکن کامیابی ثناء کو ہوئی اور وہ بھاگ کر باتھ میں گھس گئی۔
اس روز ہم شام قریبی علاقہ دیکھتے رہے۔ اچھا تاریخی سا کلچر نظر آیا ۔۔رات سمندر اوپر کو بڑھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے اطراف کی سڑکوں پہ پانی نظر آنے لگا ۔ یہ کیسا دلفریب منظر تھا کہ سمندر کے ساتھ گزرنے والی اکثر کاروں پہ کوئی اونچی لہر حملہ آور ہوتی اور کار کی ونڈ اسکرین پہ وائپر چلنے لگتے۔۔ جیسے موسلادھار بارش کی مختصر سی قسط چلی ہو۔ اچھا ہوا جو ہم آگئے ۔ ثناء بھی خوش تھی کہ مفت میں ایسی عیاشی مل رہی تھی ۔ اگلے روز بھی ہم نے ادھر گرد بہت مقامات تھے جو دیکھے۔ ایک پرانا قلعہ سا تھا جس پر جانے کا راستہ کچا تھا۔ ہم نے ان ہلکے براؤن اور سفید  چٹانوں والے رستے پہ جا بجا بگلے نما پرندے اوپر چٹانوں سے چپکے دیکھے جیسے چمگادڑ لٹک رہے ہوں ۔ایک جگہ ثناء اور عاشی ایکدوسرے سے لڑنے جھگڑنے۔میں۔مصروف تھیں کہ ایلی اور شمریز کا سامنا ہوگیا۔۔۔ ہنسوں کا جوڑا پیار کے۔لمحے انجوائے کررہا تھا کہ ان دونوں نے دیکھ کر نعرے بازی شروع کردی ۔ خوب مذاق اڑانے لگیں ۔ ایلی آگے بڑھی اور ثناء کو دھکا دے کر بھاگ گئی ۔ شمریز بھی ہنس رہا تھا۔ پھر ہم اس قلعے کے دوسری طرف اتر گئے ۔۔ واہ کیا ہری بھری وادی تھی ۔ ایسا لگتا تھا کہ بلیک اینڈ وائٹ فلم۔سے نکل کر کلرڈ مووی میں آگئے ۔ رنگ برنگی پھول اور چھوٹی سی جھیل کیا رومینٹک منظر تھا۔ ڈھلان سے اترتے ہوئے عاشی اور ثناء ایکدوسرے کو دھکیلنے لگیں اور کچھ ہی دیر میں ہم سب بچوں کی طرح رولنگ کرتے ہوئے نیچے جانے لگے ۔ عاشی تو اتنی تیزی سے نیچے آئی کہ دھڑاپ سے جھیل کے ہلکے پانی میں جاگری ۔ بچاری بھیگ گئی ساری ۔ گیلی پینٹ کے ساتھ اب اس کے لئے سردی میں زیادہ دیر گھومنا ممکن نہ رہا البتہ دن کا وقت تھا تو کچھ دیر ہم نے وہاں گزارا ۔ایلی اور شمریز کی ڈھیر ساری تصاویر کھینچیں ۔ واپسی پہ شمریز نے بتایا کی کل صبح چیک آوٹ کرینگےاور دوسرے شہر جائیں گے ۔
اگلے روز ہم ہوٹل سے نکلنے لگے تو مینجر نے ایلی کو ایک گفٹ پیک دیا جو غالبا وہ اکثر نوبیاہتا کو دیتے رہتے تھے۔ ان کے ساتھ فوٹو سیشن کیا اور ٹرام اسٹیشن چل دئیے۔ منزل مقصود پہ پہنچے تو ہوٹل کی ٹرانسپورٹ باہر کھڑی ملی ۔ اپنے کمروں میں پہنچے اور فریش ہوکر باہر نکل گئے۔ یہ بارونق شہر تھا۔ کچھ شاپنگ سنٹر دیکھے اور کچھ گفٹس خریدے۔ پھر وہیں باہر کھانا کھایا اور رات کمرے میں واپس ائے۔ اب اصل آوٹنگ ہماری کل کی تھی۔ یہ فن لینڈ تھا جہاں رائیڈز اور فیریز کی بھرمار تھی۔ یہ شمریز کا وہ سرپرائز تھا جو اس نے خصوصا ہمارے لئے پلین کیا۔ شمریز کو ایلی پیار سے پروفیسر اور پرو کہہ کر بلا۔رہی تھی۔شمریز کے بارے میں ہم پہ انکشاف ہوا کہ اسے تیز جھولوں سے خوف آتا تھا ۔
ہم جھولوں والی ایکٹویٹی کےلئے لائٹ ڈریسزر پہنے ۔ لوزشرٹس کے ساتھ ریلکیس ٹراوزرز اور پلین شوز ۔ انڈیانا جونز کی طرح بیگ لٹکائے ہیٹ پہنے ہم جب ہوٹل سے نکلے تو سامنے سڑک کی دوسری طرف عمارت کے شیشے میں خود کو دیکھ کر ہم۔سب کی۔بے اختیار ہنسی نکل گئی ۔ اور پھر ثناء کو تصاویر کھینچنے۔کا دورہ پڑگیا ۔ ہم ہوٹل سے کار میں نکلے جو شمریز نے دو روز کے قیام کے لئے ہائیر کروائی تھی ۔ سمجھداری کی شمریز نے ۔ہم نے بھی ڈگی میں سامان بھرلیا۔ لڑکیوں۔نے تو کپڑے اور جوتے بھی ساتھ اٹھائے تھے۔ بہت مزہ آیا سارے رستے ہپ ہاپ میوزک چلتا رہا۔خوب انجوائے کیا ۔پیروڈی اور ایکٹنگ تو عاشی کا خاصا تھا ۔ زبردست نقل۔اتارتی تھی ۔
اب ہم فیری لینڈ/فن لینڈ پہنچ چکے تھے ۔ رولر کوسٹر کو دیکھ کر خوف آتا تھا ۔ لیکن آج ہی تو موقع ملا تھا ۔چھوڑنا تو کچھ بھی نہیں۔ پہلے شوٹنگ کی ۔میں اور ایلی اچھے نشانہ باز ثابت ہوئے ۔ پیارا سا ٹیڈی ایلی کو اور سفید نرم  بنی میرے حصے میں آیا۔ پھر ہم ہورر ہاوس گھس گئے ۔ شمریز تو چاہتا تھا کہ اسے باہر چھوڑ جائیں۔ لیکن ایلی نے کچھ اور ہی پلین کیا ہوا تھا اور جب باہر نکلے تو عاشی کے سر کے بال کھڑے تھے ۔ ثناء کے اوپر ڈھیر ساری پارٹی پفس گرائی گئی۔۔۔ میرے ساتھ کیا ہوا؟ میں نے پوچھا تو سب ہنسنے لگے ۔ ایلی نے شیشہ نکالا ۔۔ ہائے ۔۔ باسٹرڈز ۔۔ میرے منہ سے بے اختیار گالی نکل گئی ۔۔ کمبختوں نے میرے چہرے پہ سپرے کیا تھا اور اب میں منہ دھونے کی جگہ ڈھونڈ رہی تھی ۔ سب ہنس رہے تھے ۔ ایلی اور شمریز نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خوب رومینس کیا اور تما شا یہ ہوا کہ جب وہاں ان سائیڈ کیمروں نے تصویریں لیں تو ان بےشرموں کی تصاویر پر سارے لوگ مزے لیتے نظر آئے ۔ اب ایلی شرمندہ ہوگئی اور جلدی سے قیمت ادا کرکے اپنی تصاویر لیں۔ ہماری تو ایسی خوفناک شکلیں تھیں کہ دل ہی نہ کیا کہ کوئی بھی تصویر لیتے لیکن شمریز نے یادگار کے طور پر ایک ایک سب کی تصویر لے لی۔ اب ہم رولر کوسٹر کی طرف جارہے تھے ۔ شمریز کی شکل دیکھ کر ہنسی آرہی تھی ۔ وہ بالکل بھی بیٹھنے کے حق میں نہ تھا لیکن ایلی کب چھوڑتی تھی ۔ ٹکٹ لے کر جب میں اور ایلی آئے تو پتا چلا کوئی بھی فرنٹ پہ بیٹھنا نہی چاہتا ۔ ذرا سا جھجکی لیکن کیا کرتی مجھے ہی بیٹھنا پڑا ۔ لو جی اس میں کیا ڈرناتھا ۔۔۔ ابھی آہستہ آہستہ کوسٹر چل رہی تھی ۔ سامنے سارا شہر نظر آرہا تھا واہ کیا نظارہ تھا۔ ہائےےےے۔۔۔۔ اور ہم نیچے کو اترنے لگے اب سپیڈ تیز ہورہی تھی ساتھ دل کی دھڑکن بھی ۔ اتنا سیدھا اتر رہے تھے اتنی اونچائی سے کہ دل رکتا ہوا محسوس ہوا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو عاشی اور شمریز دونوں نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھا تھا البتہ ایلی اچھل رہی تھی ۔یقینا وہ پہلے بھی کئی بار بیٹھی تھی ۔ اب ہم اوپر کو جانے لگے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو جان نکل گئی ۔۔ ہم تو جیسے الٹا آسمان سے لٹک رہے تھے۔ ایک سرد لہر ریڑ کی ہڈی میں دوڑنے لگی ۔ابھی کوسٹر سیدھی بھی نہ ہوئی تھی کہ وووووہووو۔۔۔ اور ہماری چینخیں نکل گئیں ۔۔۔ اب کوسٹر فل سپیڈ سے نیچے گئی اورتیز ہوتی ہوئی پھر اوپر سے نیچے گر گئی ۔۔ اللہ اللہ ۔۔ ثناء میرے پیچھے تھی ۔۔ کان کے پردے پھاڑ دئیے اس کی چیخوں نے ۔۔ جب تک کوسٹر پہ رہے ہمارے منہ بند نہ ہوئے ۔جب رکی تو سب کے سر چکرا رہے تھے۔ اف ۔۔۔ کتنا مزہ آیا نا ؟ ایلی نے ثناء کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو اس نے گھور کر دیکھا توبہ۔۔ جان کئی بار نکل کر واپس آئی ۔۔ میں تو اب زندگی میں نہ بیٹھوں۔ وہ کانوں کو ہاتھ لگا رہی تھی ۔ سامنے ہماری خودساختہ کیمروں سے لی گئی تصاویر چل رہی تھیں۔ ایسی خوفناک شکلیں کہ خود کو خود ہی نہ پہچانا۔ کوئی ارادہ نہ تھا کہ لیتے لیکن شمریز نے یادگار جمع کرنے کے بہانے لے لیں۔ ایسے بڑے بڑے منہ کھولے تھے کہ حلق کا قوا بھی کئی تصاویر میں صاف دیکھا جاسکتا تھا ۔ اس کے بعد ہم اتنا تھک گئے کہ ایک بنچ پر جاکر ڈھیر ہوگئے ۔ ایلی آئس کریم لے آئی سب کو دی۔ شمریز نے اپنی ختم کرلی تو ایلی کی بھی کھا گیا ۔ ایلی پھر گئی اپنے لئے اور لائی ۔ بچاری ہم سے باتیں کرتی تھی تو شمریز چپکے سے اس کی آئس کریم چاٹ لیتا تھا ۔ اور پھر شمریز نے وہ بھی چھین لی ۔ ایلی کو غصہ آیا تو عاشی کو بولا کہ اور لے آو ۔ تیسری آئس کریم آئی تو شمریز نے ایلی سے پھر مانگی ۔ ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ شمریز کو اتنی آئس کریم کی کیا طلب ہوگئی کہ دل ہی نہیں بھر رہا اسکا ۔ دو چار بار جب اس نے ایلی سے آئسکریم مانگی اور اس نے نہ دی تو اس نے چھیننے کی کوشش کی ۔ ایلی نے غصے میں آکر ساری آئسکریم اس کے منہ پہ مل دی اور کچ کچ کچ۔۔۔ ثناء نے تصاویر کھینچ لیں۔ اب سارے ہنس رہے تھے لیکن ایلی خفا تھی ۔پھر شمریز نے اس کے کان میں کچھ کہا اور ایلی کا موڈ بدل گیا ۔اب ہم ایسے بچے تو نہ تھے ۔ سمجھ گئے کوئی خاص راز و نیاز ہوئے جو ایلی کا غصہ رفع دفع ہوگیا۔ وہاں سے اٹھے اور کچھ دیر گھوم پھر کر شاپنگ کی اور پھر سے رائیڈز کیلئے چل پڑے ۔